عجیب لوگ

      

        "یہ دنیا کتنی اچھی ہے ! یہاں کچھ غلط نہیں ہوتا۔ کیسے لوگ اسی طرح آتے جاتے ہیں، پھرتے ہیں، اپنا کام کرتے ہیں۔ان ناولوں میں ہی نہ جانے کہاں سے اور کیوں اتنی برائیاں ہوتی ہیں، چوری چکاری، قتل و غارت، زبر جنسیاں وغیرہ۔اصل دنیا تو اس سے کہیں حسین ہے  اور بہتر ہے۔ کسی دن ضرور میں یہ دنیا بھی دیکھوں گی۔ !" اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی  کے پاس  کرسی پہ بیٹحے باہر گلی میں دیکھتے ہوئے سوچا۔
            جب سے وہ پیدا ہوئی تھی ایک بار بھی باہر نہیں گئی تھی۔ سترہ سال سے اپنے محل  میں ہی گھومتی تھی اور جو حکم کرتی اس کی فوراً تعمیل بھی ہو جاتی۔ اس حکمرانی کے شوق میں نہ جانے  دفع اس محل کی آرائش میں  اور تعمیر میں  ترمیم کی۔ جیسا محل اپنے نالوں میں دیکھتی ویسا ہی بنانے کو جی چاہتا تھا۔ اس کے باپ نے بھی  اسے کھلی چھوٹ دی تھی  اور جو وہ چاہتی ویسا ہی ہوتا۔بس ایک پابندی تھی  کہ گھر سے باہر نہیں جانا۔ اس کا باپ جانتا تھا کہ باہر جو حالات ہیں  وہ اس  قابل نہیں کہ اس کی شہزادی  جیسی بیٹی ان سے آشنا ہو ۔ شہر کا حکمران ہونے کے باوجود  وہ اِن  برائیوں اور جرائم کو ختم کرنے میں نہ کام رہا تھا۔ آئے دن لڑکیاں اٹھا لی جاتی تھیں اور کبھی اس کا کچھ اتاپتا نہ ملتا اور  کبھی ان کی نیم عریاں   اور الف ننگی   زخموں سے پُر لاش مل جاتی یا کبھی ادھ موئی ملتی۔ جو جرم اس علاقے میں عام تھا وہ لڑکیوں  کا اٹھا لے جانا ہی تھا۔ یہ اتنا عام ہو گیا تھا  کہ کچھ لڑکیاں جان بوجھ کر  بھی اپنے عاشقوں کے ساتھ  اغوا ہو جاتیں اور کوئی ان پر بد کرداری کا الزام بھی نہ لگتا ۔ اس کے علاوہ چوری وغیرہ لڑائیاں ، یہ سب بھی  ہوتا رہتا تھا۔ ایسے میں پری کا آنا اور یہ سب دیکھنا یہ الگ برائی تھی۔
            ازہر خان نے اپنی بیٹی کی پیدائش پر یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اس علاقے سے برائیوں کو ختم کر دے گا اور  پھر اپنی بیٹی کو یہ شہر خود گھمائے گا۔ اسے افسوس تھا  کیوں کہ یہ برائیاں اس کی ہی پیش کر دہ تھیں۔ اسی نے ، جب وہ ڈاکو تھا اور ابھی اس کو یہ شہر نہیں ملا تھا ، لڑکیاں اٹھانا شروع کیا تھا  تاکہ اس  کے ڈاکوؤں کی فوج بڑھتی جائے اور ڈاکو خوش بھی رہیں۔ ایک بار اس نے ایک خوب رو لڑکی اٹھا لی  ۔ جس سے اسے پہلی نظر میں عشق ہو گیا۔ یہ خود بھی گبر و جوان اور  خوش شکل تھا اور پھر لڑکی کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آ رہا تھا  (جو ڈاکوؤں میں عام نہیں تھا) لڑکی کو یہ بھی اچھا لگنے لگ  گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے شہر پر دھیرے دھیرے قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔
            لڑکی کے باپ کے پاس دو شہر تھے۔ جن میں سے ایک کا نصف ازہر خان کے قبضے میں تھا۔اور عین ممکن تھا کہ دونوں شہر بھی اس کے قبضے میں آ جاتے۔  لڑکی کا باپ خود کو اتنا طاقت ور نہیں سمجھتا تھا کہ وہ ازہر خان، مشہور زمانہ ڈاکو، سے لڑائی کر سکے۔ اس لیے اس نے اپنی بیٹی کا سہارا لے کر اس لڑائی کو ایک سودے کے ذریعے ختم کرنا چاہا۔ وہ ازہر خان کے پاس اکیلے اس کے علاقے میں گیا اور اسے ایک پیش کش کی۔ "تم یہ شہر "آدم نگر"پورا لے لو اور ساتھ میری بیٹی سے بھی شادی کر لو۔ اور وعدہ کرو کہ دوسرے شہر سے اپنے ڈاکوؤں کو ادھر بلا لو گے  اور اسے میری ملکیت میں ہی رہنے دو گے، اس میں مخل نہیں ہو گے۔ " ازہر خان پر عشق کا بھوت سوار تھا اور وہ  جب یہ بات اس کی معشوق نے دہرائی  فوراً مان گیا۔ تب سے "آدم نگر" کا نام "ازہر پور" ہو گیا۔  اور اور ازہر پیدا ہو گئے۔ پہلے ازہر خان کو کچھ برا نہ لگا، یہ وحشیانہ پن ڈاکوؤں پر اچھا لگتا تھا ، لیکن جب اس کی بیٹی پیدا ہوئی  اسے ان جرائم کی سنگینی کا احساس ہوا۔ اسی ڈر سے اس نے اپنی بیٹی کو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا  اور اسی دن سے لڑکیوں کی حفاظت کے لیے خاص اقدامات بھی اٹھائے لیکن اب پانی سر پر سے گزر چکا تھا۔ اب معمہ یہ تھا کہ  خود اغوا ہوئی لڑکیوں میں سے ان بے قصور لڑکیوں کو جنھیں اغوا کیا گیا کیسے علیحدہ کرنا۔  اور کئی بار ایسا بھی ہوا تھا کہ لڑکے نے لڑکی کو پیار میں پھنسا یا اور جب لڑکی اس کے ساتھ بھاگ گئی، کیوں کہ ادھر شادی کے لیے لڑکی کی رضامندی  نہیں مانگی جاتی تھی بلکہ یہ معاملہ دونوں گھرانے آپس میں طے کر لیتے تھے، اسی لیے لڑکیاں عشق میں بھاگ بھی جاتی تھیں اور اب جب بھاگ جاتی تو لڑکے استعمال کر کے چھوڑ دیتے۔  ان کیسز میں سزا دی جائے تو کسے دی جائے۔
            جرائم بڑھتے جارہے تھے ، جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ ازہر خان ڈاکو تو کامیاب تھا لیکن حکمران نا کام ٹھہرا۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم کے باعث چوریاں بھی ہونے لگیں  اور اسی بابت قتل و غارت بھی شروع ہو گئی۔  ازہر خان تو امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا تھا  مگر عوام غربت کے دریا بھی ڈوبی جا رہی تھی۔ مگر اس حال بے حال میں بھی کسی نے بغاوت نہیں کی۔ جو جیسا تھا ویسے ہی چلنے دیتے تھے۔ کیوں کہ جو لوگ کرتے تھے وہ اسے برا ، یا جرم، سمجھتے ہی نہیں تھے۔
            ایک دن پری نے یہ فرمائیش کر دی کہ اس نے بھی ناول لکھنا ہے۔ ازہر خان بہت خوش ہوا۔ اور فوراً اچھے قیمتی کاغذ اور نفیس قلم بھی  منگوا لیا۔ لیکن ناول وہ اپنے شہر پر لکھنا چاہتی تھی۔  وہ باقی لوگوں کو بتانا چاہتی تھی کہ اس کا شہر کتنا خوش حال ہے اور اس لیے اسے شہر دیکھنا پڑے گا، تاکہ اچھے سے منظر کشی اور حالات و اقعات کو قید کر سکے۔ ازہر خان یہ فرمائش سن کر سٹپٹا گیا۔  لیکن بیٹی مصر تھی   کہ اتنے جرائم سے گھرے شہروں کو پڑھتی ہوں اپنے شہر کے بارے میں، جو پُر امن  ہے، کیوں نہ لکھوں۔ آخر میرے اس شہر کی خوش حالی کا راز کیا ہے؟ ازہر خان نے فوراً، پہلی بار ، انکار کر دیا۔ پری ناراض ہو گئی اور ازہر خان پریشان ۔ اس نے اپنی بیگم کو پری کو منانے کے لیے بھیجا پر پری پھر نہ مانی۔ آخر تھی تو ازہر خان کا خون ہی، باغی اور ڈیٹھ تو ہونا ہی تھا ۔  اور بالآخر جب ازہر خان نے اجازت نہ دی، وہ سمجھ رہا تھا کہ اگر ہم اس بات کو  نہیں چھیڑیں گے تو وہ بھول بھلا جائے گی،لیکن ایسا نہ ہوا اور پری بغیر اجازت باہر نکل گئی۔
            گلی میں خوش حال لوگ پھر رہے تھے ۔ وہ انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ جلدی میں کاپی پینسل لانا بھول گئی تھی وگرنہ ناول کی شروات باہر سے ہی کرتی۔ "نہ جانے پاپا نے مجھے کیوں ان سب سے دور رکھا ہے؟" اس نے آس پاس دیکھتے ہوئے سوچا۔ اپنی گلی چھوڑ کر اگلی گلی گئی تو ابھی کچھ آگے گئی ہی تھی کہ ایک بندہ تیزی سے بھاگتا آیا اور اس کے پیچھے ایک اور شخص تھا جو "چور، چور" چلا رہا تھا۔ آس پاس کے لوگوں نے چور کو دھر لیا، اسے خوب پیٹا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا۔ وہ پہلے تو مایوس ہوئی لیکن جب چوری ناکام ہو گئی اور چور کو پولیس کے حوالے کر دیا  اس کی مایوسی ختم ہو گئی۔ "قانون کا یہ ہی تو فائدہ ہے، برائی ہونے ہی نہیں دینی۔ واہ! میرے پاپا کا شہر  کتنا اچھا ہے!"ابھی کچھ آگے گئی ہی تھی کہ ایک لڑکی نظر آ گئی۔ اس نےسوچا  وہ روز ادھر آتی ہوگی اس سے ہی حال احوال پوچھ لوں اور پھر گھر کو چلے اس سے قبل کے سب کو معلوم ہو۔ ابھی اس کے پاس پہنچی ہی تھی  کہ  ایک طرف سے کسی لڑکی کی چیخ سنائی د۔ اس نے پلٹ کر دیکھا توچند  آدمی ایک گاڑی میں بند کر کے ایک لڑکی کو لے جانا چاہ رہے تھے۔ "یہ کیا ہے؟" اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ پاس کھڑی لڑکی نے، جس کے پاس اب پہنچ گئی تھی، اس نے حیرت کا اظہار کیا۔"کیا ، کیاہے۔ لڑکی کو اٹھا کر لے جا رہے اور کیا۔ ۔۔۔تم پہلی بار آئی ہو ادھر، یہ تو روز ہی ہوتا ہے۔ آئے دن کوئی لڑکی اٹھا لی جاتی پھر اس حالت میں واپس آ جاتی۔" دور ایک کباڑ پر  ایک لڑکی پڑی تھی اور لوگ اسے اٹھا کر ہسپتال والی گاڑی میں ڈال رہے تھے۔ پری یہ منظر دیکھ کر، اور خاص طور پر اس لڑکی کے زخم اور جس طرح اس کا بدن ننگا ہو رہا تھا  وہ یہ سب اپنی ان آنکھوں سے پہلی بار دیکھ کر ڈر گئی، اور اسی ڈر میں کانپتے ہوئے، وہ اپنے اس خوش حال محل میں واپس چلی گئی۔ ہانپتے ہوئے اپنے کمرے میں پہنچی اور اندر سے کمرہ مقفل کر دیا۔ "شاید اس لیے پاپا مجھے باہر نہیں جانے دیتے، کیوں کہ باہر ویسا نہیں ہے جیسا اندرسے لگتا ہے۔" اس نے سانس بہال کرتے پوئے سوچا۔
            وہ پھر آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے کھڑکی کے پاس پہنچی اور کرسی پر بیٹھ گئی، اور باہر دیکھتے ہوئے سوچنی لگی۔ "یہ لوگ کتنے عجیب ہیں! ہر دن کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، کوئی واردات ہوتی ہے، اور پھر بھی یہ ایسے پھر رہے جیسے کچھ بھی نہیں ہوتا۔"

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

شادی کی خوشی

منہ کالا